لے چلا عشق مجھے لطف کی رعنائی پر
Poet: وشمہ خان وشم By: وشمہ خان وشم, ROMANIAلے چلا عشق مجھے لطف کی رعنائی پر
چاند آنگن سے گیا صبح کی انگڑائی پر
کھیل سکتی ہوں محبت کی میں بازی یوں ہی
اس کی شہرت نہ بندھی ہو مری رسوائی پر
وار سہنے کو علاقہ یہ بہت اچھا ہے
کچھ نہ گزرے گی اگر دل کے تماشائی پر
اہتمام ایسا کی تو نے کہ دیوانوں کا
دل فسردہ ہے تری انجمن آرائی پر
میں بھی اندر سے بہت روئی ہوں اس پر وشمہ
جب کبھی کان دھرے ہیں کسی شہنائی پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






