آپ اتنا میرے قریب ہوئے (گیت)

Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistan

اتفاقات کچھ عجیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

یہ خبر نہ تھی آپ میرے لیے
اپنی پلکیں بچھائے بیٹھے ہیں
دھڑکنوں میں ہے نام بس میرا
مجھ کو دل میں بسائے بیٹھے ہیں

کتنے اچھے مرے نصیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

ڈھونڈتا تھا وفا زمانے میں
کوئی بھی نہ وفا شعار ملا
پیار چاہا تو بس ملی نفرت
پھول مانگا تو مجھ کو خار ملا

لوگ ہر دور میں رقیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

زندگی نے سکون پا ہی لیا
آپ آئے بہار آئی ہے
پیار پا کر یہ لگ رہا ہے مجھے
جیسے قسمت قرار لائی ہے

چھو کے دل کو مرے حبیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

دل میں شہنائیاں سی بجنے لگیں
نور برسا رہی ہے رات حسیں
آج تنہائی بھی ہے موقع بھی
آج مدہوش ہو نہ جاؤں کہیں

ایک دوجے کے ہم نصیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

اتفاقات کچھ عجیب ہوئے
آپ اتنا مرے قریب ہوئے

Rate it:
Views: 884
18 Nov, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL