مار ڈالوں گا اسے خود بھی میں مر جاؤں گا
Poet: مرید باقر انصاری By: مرید باقر انصاری, Karachiمار ڈالوں گا اسے خود بھی میں مر جاؤں گا
دل میں اترا نہیں مٹی میں اتر جاؤں گا
پھر مری موت شہادت یا کہیں لوگ حرام
عشق کی لاج تو رکھ جاؤں گا مر جاؤں گا
میرا حق ہے کہ اسے کوئ سزا دوں میں بھی
جس نے سوچا کہ اکیلے میں سنور جاؤں گا
یاد رکھیں گے ہمیشہ مجھے دنیا والے
میں جو قائم کبھی مثل ایسی ہی کر جاؤں گا
اپنا گھر جس کلۓ چھوڑ دیا تھا میں نے
اس نے یہ بھی نہیں سوچا کہ کدھر جاؤں گا
اس نے آنا ہی نہیں لوٹ کے میری جانب
چاہے میں ٹوٹ کے جتنا بھی بکھر جاؤں گا
جس طرح میں نے محبت میں کٹھن راہیں چلیں
ایک دن ہجر کا بھی کاٹ سفر جاؤں گا
میرے احباب کبھی بھول نہ پائیں گے مجھے
میں جو ہر چیز میں چھوڑ اپنا اثر جاؤں گا
وہ سمندر ہے تو اپنے لیۓ ہو گا باقرؔ
میں وہ دریا نہیں موجوں سے جو ڈر جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






