مانو کے دل بھر گیا ہوگا
Poet: سید سفیر علی شیرازی By: سید سفیر علی شیرازی , Bhalwalمانو کے دل بھر گیا ہوگا
ہاں، بھر گیا ہو گا پیار ہو گیا ہوگا
یہ جو تم آہستہ آہستہ سے دور جا رہے ہو
یقیناً کوئی اور مل گیا ہوگا
تم نے جو سیکھا اے ہیں ہمیں آداب محبت
تو پھر ان کو انھیں پر لاگو کر دیا ہوگا
ہمارے ساتھ جو تم نے کچھ دیر سفر کیا ہے
اب اس میں مزید اضافہ کر لیا ہوگا
نہ جانے تم راتوں کو سکون سے سوتے ہو
مجھے تو لگتا ھے ارادہ کر لیا ہوگا
آگے ہم تمہاری جان تھے، ہیں نا
اب یہ وعدہ کسی اور سے کر لیا ہوگا
سفیر ہر وقت رہتا ہے آپ کی سوچ میں محترمہ
کون بتائے اسے کے آپ نے دل کو آزما لیا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






