یہی ہماری نگاہِ حسرت کبھی پشیماں تمہیں کرے گی

Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, India

یہی ہماری نگاہِ حسرت کبھی پشیماں تمہیں کرے گی
کبھی ہماری یہ جاں نثاری سبب مسرت کا بھی بنے گی

تو ہی تو ہم راز ہے ہمارا تو ہی ہمارا تو ہمسفر بھی
تو ہی تو ہم دم بھی ہے ہمارا تیری رفاقت سدا رہے گی

کبھی اِدھر تو ہے بے قراری کبھی اٌدھر تو وہ ہی تغافل
کبھی تو کوئی رہے بھی نازاں اسی سے ہمت ہمیں ملے گی

جنوں کے آثار لگ رہے ہیں مگر وہ ہی ضبط کا ہے عالم
یہ آنسو اپنے خشک تو ہیں مگریہ طغیانی نہ مٹے گی

کبھی وہ دل سے گزر بھی جائیں نہ کوئی احساس ہو بھی اس کا
کبھی تو آواز ہو بھی ایسی کہ اجنبی جیسی وہ لگے گی

یہ آس ہی اثر کی رہے گی اگرچہ زخموں سے چور دل ہے
کبھی تو ہم پر ترس بھی ہوگا کبھی تو چشم کرم پڑے گی

Rate it:
Views: 621
24 Jul, 2022
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL