مبارک قدم
Poet: SYED ZULFIQAR HAIDER By: SYED ZULFIQAR HAIDER, Nizwa, Omanتم مسکراےَ مُنحرف ادب و لحاظ ہوا
ارمانوں کا سمندر یکسر بے لگام ہوا
ہوش سے قاصر نتائج سے بے خبر
عشق و حسرت میں تمہاری زلفوں کا اسیر ہوا
اب مجھے تم سے وابستگی جائز لگے
ایسے رشتے کی زنجیر میں جکڑا ہوں
خود پر کوئی بس نہیں نہ کوئی تدبیر کارگر
بے خود ٹکرانے کو سارے سماج سے قائل ہوا
کچھ توجہ ملے جو تیری دل کو قرار آےَ
ننگے پاؤں ہوں مُسافت بہت دور کی ہے
ہمت و استقلال اگرچہ کم نہیں میرے ہمدم
تیری بے رُخی کی سوچ سے میسر خوف ہوا
سراب کی سی کیفیت تھی مسافر میری حقیقت
بے سر و سامان بھٹکنا تھا میری قسمت
زندگی سے نہ لگاؤ نہ کوئی خواہش کی زنجیر
تم آۓ میرے آنگن میں خوشیوں کا بسیرا ہوا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






