مثلے شرار اڑ کے ہوا میں بکھر گیا
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotمثلے شرار اڑ کے ہوا میں بکھر گیا
جس کو ہے ڈھونڈے آنکھ مری وہ کدھر گیا
سب رونقیں بے رنگ تھیں افسردہ تھا سماں
تو کیا گیا کہ زندگی بے کار کر گیا
الجھے ہوے سوال کی مانند چھوڑ کر
جانے کہاں سے آیا تھا اور پھر کدھر گیا
ہم نے تری حیات کو مانگا تھا بارہا
اب تو مری دعاؤں کا لگتا اثر گیا
سائل نہ بول چپ رہ تماشا بنایں گے
جو غمگسار تیرا تھا اب وہ گزر گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






