مجھے آشیاں کی تلاش تھی
Poet: Ayesh khan By: Ayesh Khan, karachiمجھے آشیاں کی تلاش تھی پر اندھیرے ڈھونڈتا رہا
وہ میرے ساتھ تو چلا مگر ہمسفر ڈھونڈتا رہا
کس الجھن نے بڑھائے ہمارے بیچ کے فاصلے
میں سبب ڈھونڈتا رہا وہ ستم ڈھونڈتا رہا
جستجو نہ تھی جسکی مجھے وہ تو ملا مگر
نہ ملا وہ جسکو میں ساری عمر ڈھونڈتا رہا
قصہ میری زندگانی کا سنانے کی دیر تھی
محفل سے اٹھا وہ شخص اور مجھے ڈھونڈتا رہا
زندگی جھکتی رہی موت کی منزل کے سامنے
پیوسط تھا دل میں خنجر وہ سبب ڈھونڈتا رہا
شوق تھا جسے اپنا نصیب آپ لکھنے کا عائش
وہ عمر بھر قسمت کا قلم ڈھونڈتا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






