مجھے آنکھوں پہ کیوں یقیں نہیں ہے؟
Poet: نوشین فاطمہ By: nosheen fatima abdulhaqq, Multanحسن کو عشق پر یقیں نہیں ہے
خواب تعبیر کے قریں نہیں ہے
گر ترے دل کی دھڑکنوں میں نہیں
پھر مرا نام تو کہیں نہیں ہے
یعنی سجدے تمام ہیں بےسود
گر کوئی داغ برجبیں نہیں ہے
اے مقدر ! مجھے تو موقع دے
تیرے قبضے میں وہ حسیں نہیں ہے
وہ ملے اور مل کے جا بھی چکے
مجھے آنکھوں پہ کیوں یقیں نہیں ہے
کیا وہ خلوت پسند ہے نوشین
یا جہاں میں ہوں بس وہیں نہیں ہے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






