مجھے اب درد کی دولت سے مالا مال کر ڈالو
Poet: shahzad hussain sa'yal By: shahzad hussain sa'yal, Sialkotمجھے اب درد کی دولت سے مالا مال کر ڈالو
مجھے پاگل مجھے مجنوں مجھے دیوانہ کر ڈالو
بہت ہی نا سمجھ ہوں میں تمنا کیا میں رکھتا ہوں
مجھے ساقی مجھے مے کش مجھے میخانہ کر ڈالو
ابھی میں بانکپن میں ہوں، جھلک اپنی دکھا کر تم
مجھے شیدا مجھے خبطی مجھے پروانہ کر ڈالو
محبت کے پُجاری ہو تمہیں کس بات کا ڈر ہے
مجھے مندر مجھے گرجا مجھے بت خانہ کر ڈالو
تمہیں تو لطف آتا ہے کسی کا دل دُکھانے میں
مجھے تنہا مجھے بے بس مجھے بیگانہ کر ڈالو
محبت میں زمانہ یاد کچھ سائل کو بھی رکھے
مجھے قصٗہ مجھے کتھا مجھے افسانہ کر ڈالو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






