مجھے اُس ہم سخن سے انداز نہیں آتے
Poet: Shama Ansari By: Shama, Gujranwala لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر الفاظ نہیں آتے
مجھے اُس ہم سخن سے انداز نہیں آتے
کہنے کو حسن درحقیقت ماہِ تمام ہے وہ
ہوں تو میں بھی مغرور مگر اُس جیسے ناز نہیں آتے
اکثر ڈر جاتے ہیں ان ہوا کے تھپیڑوں سے
مگر ہم چاہنے والے تو عشق سے باز نہیں آتے
کہتا تھا مجھے کوئی چاہے میری زات سے ہٹ کر
مگر اس شمع کو رکھنے پروانوں سے راز نہیں آتے
گلہ اُس سے کیا کرنا یہ اپنا اپنا دستور ہے لیکن
چاہت میں کچھ بھی چھپانا کہ الفاظ نہیں آتے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






