آئینہ ھوں میں میرے سامنے آکر دیکھو
Poet: M.Z By: M.Z, karachiآئینہ ھوں میں میرے سامنے آکر دیکھو
خود نظر آؤ گے جو آنکھ ملا کر دیکھو
میرے غم میں میری تقدیر نظر آتی ھے
ڈگمگاؤ گے میرا درد اٹھا کر دیکھو
یوں تو آسان نظر آتا ھے منزل کا سفر
کتنا مشکل ھے میری راہ سے جاکر تو دیکھو
بزم کا میری چراغاں ھے نظر کا دھوکا
کن اندھیروں میں بھٹکتا میں آکر دیکھو
دل تمھارا ھے میں یہ جان بھی دے دوں تم پر
بس میرا ساتھ زرا دل سے نبھا کر دیکھو
موت برحق ھے مگر تم سے وعدہ ھے میرا
لوٹ آؤنگا تم اک بار بلا کر تو دیکھو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






