مجھے بھی پیار ہوا تھا
Poet: Maria Riaz Ghouri By: ماریہ غوری, HarooNAbdمجھے بھی پیار ہوا تھا
دل میرا اس ساز سے دوچار ہوا تھا،
کیا ہی حسیں
وقت تھا
حسن تھا
شاعری تھی
حسن کی شاعری میں ڈھلتا سماع بیدار ہوا تھا
مجھے بھی پیار ہوا تھا
کیفیت بھی
بدل گئی تھی
مزاج بھی
بدل گیا تھا
مزاج کی شوخیوں میں عالم تار تار ہوا تھا
مجھے بھی پیار ہوا تھا
اس کی
باتیں تھی
میرے نخرے تھے
باتوں کے نخروں میں محبت کا اظہار ہوا تھا
روز روز
کی ملاقاتیں
روز روز
کے شکوے
لفظوں سے بچھڑنے کا وقت سوگوار ہوا تھا
ہائے!
مجھے بھی پیار ہوا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






