مجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے
Poet: مہتاب By: مہتاب, Peshawarمجھے غرض ہے مری جان غل مچانے سے
نہ تیرے آنے سے مطلب نہ تیرے جانے سے
عجیب ہے مری فطرت کہ آج ہی مثلاً
مجھے سکون ملا ہے ترے نہ آنے سے
اک اجتہاد کا پہلو ضرور ہے تجھ میں
خوشی ہوئی ترے نا وقت مسکرانے سے
یہ میرا جوش محبت فقط عبارت ہے
تمہاری چمپئی رانوں کو نوچ کھانے سے
مہذب آدمی پتلون کے بٹن تو لگا
کہ ارتقا ہے عبارت بٹن لگانے سے
More Love / Romantic Poetry






