مجھے مل گیا وہ پیغام جو تیری آنکھوں سے نکلا تھا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky) , K.S.Aمجھے مل گیا وہ پیغام جو تیری آنکھوں سے نکلا تھا
میں نے پڑھ لیا وہ نام جو تیری باتوں سے نکلا تھا
کہاں رہے سارا دن اے کاش تم بھی پوچھو مجھ سے
میں کہوں میں کھو گیا اچانک جو تیری یادوں سے نکلا تھا
مددت سے جو پتھر تھا وہ موم کیسے بن گیا
عمر بھر کی مسافت تھی جو تیری پرچھایئوں سے نکلا تھا
کہاں سے لاؤں اب میں واپس وہ گزا وقت
تجھے سوچ کر جو تیری تنہایوں سے نکلا تھا
نہیں آتا اب نظر ُاس کی زندگی میں اپنا وجود مجھے
تیرے گمان میں جو تیری راہوں سے نکلا تھا
اب تک سمبھال کر رکھا ہیں وہ آخری خط تمہارا
جیسے پڑھتے پڑھتے جو تیری گلیوں سے نکلا تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






