پر عشق ہمارا مسلک ہے،
Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachiکب اہلِ خرد کی باتوں میں، یاں پَند و نصُوح کے پھُول نہیں
پر عشق ہمارا مسلک ہے، اِک پل دو پل کی بھُول نہیں
ساقی بھی ہے پیمانہ بھی، پھر رِند نہ کیوں بَد مست بھی ہوں؟
مئے خانہ میں عقل کی باتیں ہوں، یہ بات ذرا معقوُل نہیں
ہر ایک ادا کا دِل شاہد، ہر ایک ستم کا یہ ناظر
یاں جھُوٹ ہے نامُمکن گویا، اور ایک سند مجہُول نہیں
وہ دِل جو درد سے خالی ہے، وہ آہ دِکھاوے کی یارو
انبوُہ ریاکاروں کا بہت، پر ایک صدا مقبُول نہیں
سب لوگ یہاں پہ گھائل ہیں، اُس ایک نگاہ کے ترکش سے
ہے کون کہ جو مجروح نہیں، اور کون ہے جو مقتوُل نہیں؟
ہر ایک اُسی کا عاشق ہے، ہر آنکھ اُسی کی طالب ہے
حسرت میں اُس کی روز و شب، اِک ہم ہی یہاں مشغُول نہیں
سرور، خود محبّت ہوتی ہے، یہ من چاہے کا سودا نہیں
اِس کار میں دِل خود فاعل ہے، اور عشق کبھی مَفعُول نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






