پر عشق ہمارا مسلک ہے،

Poet: سرور فرحان سرورؔ By: سرور فرحان سرورؔ, Karachi

کب اہلِ خرد کی باتوں میں، یاں پَند و نصُوح کے پھُول نہیں
پر عشق ہمارا مسلک ہے، اِک پل دو پل کی بھُول نہیں

ساقی بھی ہے پیمانہ بھی، پھر رِند نہ کیوں بَد مست بھی ہوں؟
مئے خانہ میں عقل کی باتیں ہوں، یہ بات ذرا معقوُل نہیں

ہر ایک ادا کا دِل شاہد، ہر ایک ستم کا یہ ناظر
یاں جھُوٹ ہے نامُمکن گویا، اور ایک سند مجہُول نہیں

وہ دِل جو درد سے خالی ہے، وہ آہ دِکھاوے کی یارو
انبوُہ ریاکاروں کا بہت، پر ایک صدا مقبُول نہیں

سب لوگ یہاں پہ گھائل ہیں، اُس ایک نگاہ کے ترکش سے
ہے کون کہ جو مجروح نہیں، اور کون ہے جو مقتوُل نہیں؟

ہر ایک اُسی کا عاشق ہے، ہر آنکھ اُسی کی طالب ہے
حسرت میں اُس کی روز و شب، اِک ہم ہی یہاں مشغُول نہیں

سرور، خود محبّت ہوتی ہے، یہ من چاہے کا سودا نہیں
اِس کار میں دِل خود فاعل ہے، اور عشق کبھی مَفعُول نہیں

Rate it:
Views: 628
15 Apr, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL