مجھے پیار سے ترا دیکھنا مجھے چھپ چھپا کے وہ دیکھنا
Poet: Funa Nizami Kanpuri By: Hassan, Islamabadمجھے پیار سے ترا دیکھنا مجھے چھپ چھپا کے وہ دیکھنا
مرا سویا جذبہ ابھارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
رہ و رسم قلب و نگاہ کے وہ تمہارے دعوے نباہ کے
وہ ہمارا شیخی بگھارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ ہماری چھیڑ وہ شوخیاں وہ ہمارا کاٹنا چٹکیاں
وہ تمہارا کہنی کا مارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
کبھی سرد آہوں کے سلسلے کبھی ٹھنڈی سانسوں کے مشغلے
وہ ہماری نقلیں اتارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
وہ تمہارا شاعر خوش نوا جسے لوگ کہنے لگے فناؔ
وہ نثارؔ کہہ کے پکارنا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






