پیار کا کاروبار کرتا ہوں
Poet: mahir bilgrami By: Abbas, Quettaپیار کا کاروبار کرتا ہوں
سب کو دنیا میں پیار کرتا ہوں
خود پہ میں اعتبار کرتا ہوں
پیار کرتا تھا پیار کرتا ہوں
آہ بے اختیار کرتا ہوں
یاد جب اس کا پیار کرتا ہوں
مجھ کو نفرت سے سخت نفرت ہے
پیار کو دل سے پیار کرتا ہوں
موت کا انتظار کیا معنی
زندگانی سے پیار کرتا ہوں
سبزہ و خار و گل سبھی ہیں عزیز
سارے گلشن کو پیار کرتا ہوں
دوست کر لیتا ہوں عدو کو بھی
دشمنوں کو بھی پیار کرتا ہوں
مجھ کو کیا ہو کسی کا کچھ مسلک
میں شعار اپنا پیار کرتا ہوں
مجھ کو سنگیں بتوں سے الفت ہے
پتھروں کو میں پیار کرتا ہوں
بچ کے چلنا سکھایا کانٹوں نے
اس میں میں ان کو پیار کرتا ہوں
عمر دکھ درد میں کٹی اپنی
اس لیے غم سے پیار کرتا ہوں
لوٹ لے دل جو آنکھ ملتے ہی
ایسے رہزن کو پیار کرتا ہوں
ان کو آتا ہے جس قدر غصہ
اتنا ہی اور پیار کرتا ہوں
مجھ میں رچ بس گیا ہے پیار ایسا
سب کو دنیا میں پیار کرتا ہوں
روز اول سے آج تک ماہرؔ
اس کو نادیدہ پیار کرتا ہوں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






