مجھے چائے کا اک پیالہ بھی دہنا
Poet: AB shahzad By: AB shahzad, Mailsiمجھے چائے کا اک پیالہ بھی دہنا
کبھی سوچ کے حق ہمارا بھی دہنا
کہا ہے نجومی نے مرنے لگا ہوں
مروں تو جنازے کو کاندھا بھی دینا
بنا تیرے کوئی نہیں یار میرا
برے وقت میں تم سہارہ بھی دینا
میں اکثر نہیں ہوتا آنگن میں اپنے
کبھی ملنے آؤ اشارہ بھی دینا
تجارت میں تیری وجہ سے ہوا ہے
کبھی پورا کر تم خسارہ بھی دینا
بہت یاد آتی ہے سجنا کی مجھ کو
دلا یاد اس کو وہ وعدہ بھی دینا
ملو جب کبھی میرے ساجن کو شہزاد
مرا نام لے کر حوالہ بھی دینا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






