کوئی نہیں ہے دم یار تری تو بات میں
Poet: AB shahzad By: AB shahzad, Mailsiکوئی نہیں ہے دم یار تری تو بات میں
بیٹھے اداس کیوں ہو حسیں اتنی رات میں
تنہائی میں وہ لمحے ہمیں یاد آتے ہیں
اکٹھے چلے تھے ہم تو کبھی ایک ساتھ میں
دینا نہیں ہے زیب کسی مسلمان کو
فرقے بنا کے بٹ گئے ہو ذات پات میں
بیمار عشق جاتے ہیں دیدار کے لیے
رکھ دی خدا نے جو ہے شفا ان کے ہاتھ میں
ہو مبتلا گیا ہوں میں کب سے عذاب میں
آیا نہیں ہے یار تو میری برات میں
تنہائی کی یہ راتیں سرد کٹتی اب نہیں
ٹائر جلا. کے بیٹھے ہیں برفیلی رات میں
رب نے حسین خوب دیا تم کو،حسن ہے
آیا نہیں ہے تم سا حسیں کائنات میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






