مجھے کہتے ہیں محبت
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaپرندہ ، ہوتی تو اڑ کے آ جاتی
پر ، ہوتی تو گر کے آ جاتی
لکیر ، ہوتی تو ہاتھ میں آ جاتی
تعیبر ، ہوتی تو خواب میں آ جاتی
خواب ، ہوتی تو نیند میں آ جاتی
خیال ، ہوتی تو سوچ میں آ جاتی
ہوا ، ہوتی تو جھوم کے آ جاتی
بجلی ، ہوتی تو گرج کے آ جاتی
ستارے ، ہوتی تو جگمگا کے آ جاتی
چاند ، ہوتی تو شرما کے آ جاتی
خشبوں ، ہوتی تو بکھر کے آ جاتی
موج ، ہوتی تو لہرا کے آ جاتی
چھاؤں ، ہوتی تو دھوپ میں آ جاتی
بارش ، ہوتی تو برسات میں آ جاتی
تمنا ، ہوتی تو خواہش میں آ جاتی
پانی ، ہوتی تو پیاس میں آ جاتی
شمع ، ہوتی تو امید میں آ جاتی
عکس ، ہوتی تو آئینے میں آ جاتی
دولت ، ہوتی تو پیسوں میں آ جاتی
چیز ، ہوتی تو قیمت میں آ جاتی
خاموشی ، ہوتی تو تنہائی میں آ جاتی
ادب ، ہوتی تو احترام میں آ جاتی
مذہب ، ہوتی تو ایمان میں آ جاتی
دھڑکن ، ہوتی تو دل میں آ جاتی
دل ، ہوتی تو جسم میں آ جاتی
موت ، ہوتی تو زندگی میں آ جاتی
پر میں تو ، ان دیکھا احساس ہوں
میں تو ہر روح کے ساتھ ہوں
مجھے کہتے ہیں محبت
اس لیے تو میں سب سے خاص ہوں
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






