تیرے وصال کی امید
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTتم بن میرے اس گھر میں کچھ نہیں
دیکھ لو میری اس نظر میں کچھ نہیں
جس طرف نہ ہو تیرے وصال کی امید
پیارے اس راہ کے سفر میں کچھ نہیں
اک ذرا سا وقت گزر جاتا ہے آسان
ورنہ اس شاعری کے ہنر میں کچھ نہیں
تصور کا پنچھی جانے کیوں اڑتا رہتا ہے
اگرچہ عشق کے اس سفر میں کچھ نہیں
تمہارے ہونے کا احساس زندہ ہوتا ہے میرے محبوب
ورنہ رات میں ، شام و سحر کچھ نہیں
امتیاز کو مارنا ہے تو محبت سے مارو پیارے
اس نفرت میں کچھ نہیں اس زہر میں کچھ نہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






