مجھ سے دِکھا یہ گیا نہ مجھ سے بتایا گیا
Poet: احسن فیاض By: Ahsin Fayaz, Badinمجھ سے دِکھا یہ گیا نہ مجھ سے بتایا گیا
درد ایک میراث تھا بــــــــــــــس اُٹھایا گیا
بے ساکھی کے میری گرد پہلے بھی تھے تماشائی
چارپائی پے بھی تماشہ، پھر مجھے سُلایا گیا
سُخنِ باطـــل پے تھی رواں محفل کی داد
ذکرِ حـــــــــــــــق پے اُسے واپس بُلایا گیا
تیرے زخمِ جگر کے نصیب میں تھا یہ نقاب
زخم تھا کچھ دیر عیاں پھر نہ دکھایا گیا
تم نے تو نزاکت سے چھین لی پھول سے خوشبؤ
میری آنکھ سے وہ منظر مِٹائے نہ مِٹایا گیا
درد تھا ہم دونوں کے حصے کا ورثہ احسِن
مجھے بھی نوچا گیا اسے بھی ستایا گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






