محبت آزماؤ گے؟؟
Poet: ایمان شہروز By: Imaan Shehroz, Haroonabadﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮔﮯ؟
ﺍﺑﮭﯽ ﺗﻢ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﻧﺎ ﮐﮧ، ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﺅ
ﮔﮯ!
ﭼﻠﻮ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﻼ ﺩﻭ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺁﺯﻣﺎﺅ
ﮔﮯ؟
ﺳُﻨﻮ! ﺗﻢ ﻃﻔﻞِ ﺍُﻟﻔﺖ ﮨﻮ!
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﺤﺒﺖ ﮐِﺲ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯿﺴﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺲ ﯾﮧ ﭘﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ "ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ
ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ!
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻣﺤﺒﺖ ﺳﺎﺗﮫ
ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ!
ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ، ﻣﺤﺒﺖ ﺟﺎﻥ ﺩﯾﺘﯽ
ﮨﮯ"
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﯾﮧ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ "، ﻣﺤﺒﺖ ﺍﯾﮏ
ﺩﮬﻮﮐﮧ ﮨﮯ،
ﮨﻮﺱ ﮨﮯ، ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﭼﺎﮦ ﮨﮯ، ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺎﺭ
ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ،
ﻣﺤﺒﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﯽ ﮨﮯ، ﻣﺤﺒﺖ ﺟﮭﻮﭦ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ"
ﺗﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺑﺲ ! ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﮨﯽ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﺍِﺳﮯ ﺗﻢ ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮔﮯ؟
ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺟﺎﻧﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺗﻢ
ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮔﮯ؟
ﯾﺎ ﭘﮭﺮ ﺗﻢ ﺁﺯﻣﺎ ﺑﯿﭩﮭﮯ؟
ﮐﮩﺎ ﻧﺎ! ﻃﻔﻞِ ﺍُﻟﻔﺖ ﮨﻮ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ
ﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ! ....
ﯾﮧ ﺟﺲ ﮐﻮ ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﻮ
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺑﺘﻼﺅﮞ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﮐﺒﮭﯽ "ﺁﺋﯿﻨﮧ" ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮨﮯ؟
ﮐﮧ ﺟِﺲ ﮐﺎ ﻋﮑﺲ ﻧﮧ ﮨﻮ !
ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮨﺮ ﻋﮑﺲ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ
ﺍﮔﺮ ﺑﺎﺩﻝ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺑﺎﺩﻝ، ﺍﮔﺮ ﺳﻮﺭﺝ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺳﻮﺭﺝ !
ﺍﮔﺮ ﺳﺎﯾﮧ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺳﺎﯾﮧ، ﺍﮔﺮ ﺭﻭﺷﻦ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺭﻭﺷﻦ !
ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ، ﮨﺮ ﺣﺎﻝ ﺑﻠﮑﻞ ﺳﭻ
ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﮯ !
ﺍِﺳﮯ ﮨﻢ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﺩِﮐﮭﻼﺋﯿﮟ، ﮨﻤﯿﮟ ﻭﮦ
ﮨﯽ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ
"ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺳﯽ ﮨﮯ، ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺻﺎﻑ
ﺍﻭﺭ ﺷﻔﺎﻑ !
ﺍِﺳﮯ ﮨﻢ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ، ﯾﮧ ﻭﯾﺴﮯ
ﮨﯽ ﺗﻮ ﺩِﮐﮭﺘﯽ ﮨﮯ
ﮨﺎﮞ ﺑﻠﮑﻞ ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺟﯿﺴﯽ!
ﯾﮧ ﺗﻮﮌﺍ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ، ﺍِﺳﮯ ﮨﻢ ﺗﻮﮌ ﺩﯾﺘﮯ
ﮨﯿﮟ !
ﯾﮧ ﻣﺎﺭﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﯽ، ﺍِﺳﮯ ﮨﻢ ﻣﺎﺭ
ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﮨﺎﮞ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﮨﻢ ﮨﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍِﺳﮯ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ !
ﮐﮩﺎ ﻧﺎ ! ﺁﺋﯿﻨﮯ ﺟﯿﺴﯽ!
ﮨﻢ ﺍِﺱ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﺎ؟ ﯾﮧ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﺁﺯﻣﺎﺗﯽ ﮨﮯ!
"ﻣﺤﺒﺖ ﺟﯿﺖ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﻣﮕﺮ ﮨﻢ ﮨﺎﺭ ﺟﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ"
ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﺏ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﻼﺅﮞ؟
ﮐﮧ ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﯾﺎ ﮨﺎﺭﻧﺎ ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ!
ﯾﮧ ﺳﺐ ﺫﻭﻕِ ﺍﻧﺎ، ﺗﺴﮑﯿﻦِ ﺩِﻝ ، ﻭﻗﺘﯽ
ﺗﺴﻠﯽ ﮨﮯ،
ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﮯ ﺗﻘﺎﺿﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﮯ
ﺗﻤﺎﺷﮯ ﮨﯿﮟ!
ﻣﺤﺒﺖ ﯾﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﯾﺎﺭﻡ! ﻣﺤﺒﺖ ! ﺑﺲ
ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ!
ﯾﮧ ﺧﻮﺩ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﯾﮧ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ
ﺳﮯ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ!
ﯾﮧ ﺑﺲ ﺗﻮﻓﯿﻖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ !
ﻓﻘﻂ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ!
ﻋﻄﺎﺋﮯ ﺭﺏَّ ﯾﮑﺘﺎ ﮨﮯ !...
ﯾﮧ ﮨﺮ ﺍِﮎ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ !
ﻣﮕﺮ! ﺍﺣﺴﺎﺱ ﻣﺮﻧﮯ ﭘﺮ!
ﻣﺤﺒﺖ ﻣﺮ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ!
ﺗﻢ ﺍِﺱ ﮐﻮ ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮔﮯ؟ ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﺅ
ﮔﮯ ؟
ﺫﺭﺍ ﺁﺋﯿﻨﮧ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﺗﻮ !...
ﺫﺭﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﮩﭽﺎﻧﻮ!
ﻣﺤﺒﺖ ﺁﺯﻣﺎﺅ ﮔﮯ
راہِ نیکی میں تو سچے لوگ بھی ٹوٹ جاتے ہیں
دوست جو ساتھ تھے کبھی نڈر ہمارے اے میاں
وقت کے ساتھ وہ سبھی ہم سے اب چھوٹ جاتے ہیں
ہم چھپائیں کس طرح سے اب محبت کا اثر
دل کے گوشوں سے وہ جذبے خود ہی اب پھوٹ جاتے ہیں
کچھ جو خوابوں کے نگر میں لوگ تھے نکھرے ہوئے
ہو کے بکھرے وہ ہوا کے ساتھ ہی لوٹ جاتے ہیں
جو کیے تھے ہم نے دل کے اس سفر میں وعدے سب
وقت کی قید میں وہ سارے ہم سے اب روٹھ جاتے ہیں
پھول کی خوش بو کی صورت تھی ہماری یہ وفا
یاد کے عالم میں اب وہ سب ہی بس چھوٹ جاتے ہیں
مظہرؔ اب کہتے ہیں یہ سب ہی فسانے پیار کے
کچھ حسیں لمحے بھی دل سے اب تو اتر جاتے ہیں
خواب بکھرے ہیں مرے اس دل کے ہی ویرانے میں
ہم کو تنہا کر دیا احساس کی اس دنیا نے
جیتے ہیں ہم جیسے جلتے ہوں کسی پیمانے میں
ہر قدم ٹھوکر ملی ہے، ہر جگہ دھوکا ملا
پھر بھی تیری یاد آئی ہے ہمیں زمانے میں
اپنے ہی گھر سے ملے ہیں ہم کو اتنے دکھ یہاں
بے وفا نکلے سبھی رشتے اسی خزانے میں
شمعِ امید اب تو آہستہ سے بجھنے لگی ہے
آگ سی اک لگ گئی ہے دل کے اس کاشانے میں
ہر سخن خاموش تھا اور ہر زباں تنہا ملی
غم ہی غم گونجا ہے اب تو بھیگے ہر ترانے میں
دل جسے سمجھا تھا اپنا سب ہی کچھ اے مظہرؔ
اب وہ بھی تو مل نہ سکا ہم کو کسی بہانے میں
نیک سیرت لوگ ہی دنیا میں روشن ہوتے ہیں
جس کی گفتار و عمل میں ہو مہک اخلاق کی
ایسے ہی انسان تو گویا کہ گلشن ہوتے ہیں
نرم لہجہ ہی بناتا ہے دلوں میں اپنی جگہ
میٹھے بول ہی تو ہر اک دل کا مسکن ہوتے ہیں
جن کے دامن میں چھپی ہو عجز و الفت کی ضیا
وہی تو اس دہر میں پاکیزہ دامن ہوتے ہیں
بات کرنے سے ہی کھلتا ہے کسی کا مرتبہ
لفظ ہی تو آدمی کے دل کا درپن ہوتے ہیں
جو جلاتے ہیں وفا کے دیپ ہر اک موڑ پر
وہی تو اس تیرگی میں نورِ ایمن ہوتے ہیں
تلخ باتوں سے تو بس پیدا ہوں دوریاں سدا
اچھے الفاظ ہی تو الفت کا کندن ہوتے ہیں
مظہرؔ اب اپنے سخن سے تم مہکا دو یہ جہاں
اہلِ دانش ہی تو علم و فن کا خرمن ہوتے ہیں
وقت آئے گا تو سورج کو بھی رَستہ دِکھا دیں
اَپنی ہستی کو مٹایا ہے بڑی مُشکل سے
خاک سے اُٹھیں تو دُنیا کو ہی گُلشن بنا دیں
ظُلمتِ شب سے ڈرایا نہ کرو تم ہم کو
ہم وہ جگنو ہیں جو صحرا میں بھی شَمعیں جلَا دیں
اَہلِ دُنیا ہمیں کمزور نہ سمجھیں ہرگز ہم وہ
طُوفاں ہیں جو پل بھر میں ہی بَستی مِٹا دیں
خامشی اپنی علامَت ہے بڑی طاقت کی
لَب ہلیں اپنے تو سوئے ہوئے فتنے جگا دیں
ہم نے سیکھا ہے سَدا صَبر و قناعت کرنا
وَرنہ چاہیں تو سِتاروں سے ہی مَحفل سَجا دیں
راہِ حق میں جو قدم اپنے نِکل پڑتے ہیں
پھر تو ہم کوہ و بیاباں کو بھی رَستہ دِکھا دیں
مظہرؔ اَب اپنی حقیقت کو چھُپائے رَکھنا
وقت آئے گا تو ہم سَب کو تماشا دِکھا دیں






