محبت اور بڑھتی ہے
Poet: Syed Zulfiqar Haider By: Syed Zulfiqar Haider, Dist. Gujranwala ; Nizwa, Omanمحبت میں آزمانے سے محبت اور بڑھتی ہے
چوٹ کھا کر مُسکرانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کیسے بتایئں اُسے وہ جو ہم سے آشنا ہی نہیں
دیکھ کر چہرہ چھپانے سے محبت اور بڑھتی ہے
جانتے ہوےَ بھی اجنبی کی طرح پیش آتے ہیں
شاید جانتے نہیں حقیقت چھپانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کہیں نا اب چین پاےَ بے قراری بڑھتی جاےَ
کسی کے یوں بے قرار رہنے سے محبت اور بڑھتی ہے
دیوانہ اپنا بنا کر اب مجھ سے انجان ہے
انتظار دے کر جلانے سے محبت اور بڑھتی ہے
کاش جان جائیں وہ اس حقیقت کو
بے وجہ کسی کو ستانے سے محبت اور بڑھتی ہے
خیالوں میں کھوےَ رہتے ہیں شاید اب بھی نا آشنا ہیں
خوابوں میں کسی کے آنے سے محبت اور بڑھتی ہے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL






