محبت اور مقدر
Poet: zulifqar rasheed By: Zulifqar Rasheed, Birminghamجو چاہو مِل بھی جائے ضروری تو نہیں ہے
ہَر پَل تُو ہی مُسکائے ضروری تو نہیں ہے
وہ بھی تو کرے تیری ناز برداری کبھی کبھی
ہر بار تُو ہی منائے ضروری تو نہیں ہے
اُس کا لئے خیال اوڑھوں میں نیند کو
پَرخواب میں وہ آئے ضروری تو نہیں ہے
یہ سَچ ہے میں مِٹا ہوں فقط اُس کی چاہ میں
میرا سوگ وہ منائے ضروری تو نہیں ہے
کرتا ہے بہت وعدے ووٹوں سے پہلے پہلے
اُنھیں بعد میں نبھائے ضروری تو نہیں ہے
مانا وہی دوا ہے ، تیرے دردِ کی مگر
تُجھے راس بھی وہ آئے ضروری تو نہیں ہے
جِس کے بِنا ہے میرا جیون بہت ادُھورا
میری زِندگی میں آئے ضروری تو نہیں ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






