محبت تو حقیقت میں ھے کاغذ کی ناؤ
Poet: SHABEEB HASHMI By: SHABEEB HASHMI, AL-KHOBARہمیں جھوٹے وعدوں سے یوں نہ بہلاؤ
محبت تو حقیقت میں ھے کاغذ کی ناؤ
یہ رسمیں یہ قسمیں سب دیوانہ پن ہیں
رواجوں کے گنجل دھیرے سے سلجھاؤ
اب سانسیں ہماری رکی جا رہی ہیں
سسکتی ھوئی آنکھوں کو یوں نہ رلاؤ
مدت ھوئی ھے ہمیں سفر کرتے کرتے
رکھو لو گود میں سر ذرا دیر تو سلاؤ
تمہیں اپنی چاھت پہ گر اتنا یقیں ھے
کیوں گھبرا رھے ھو ذرا نظر تو ملاؤ ۔۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






