محبت تو دعا ہے ! دل کی گہرائی سے اُٹھتی ہے
Poet: By: Rania Ch, Lahoreمحبت بھیک میں ہر گز نہیں ملتی
محبت دان بھی کوئی نہیں کرتا
نہ ہی خیرات کرتا ہے
محبت میں کوئی خوشبو کی طرح ساتھ ہوتا ہے
کسی کے ہاتھ کو تھامے کسی کا ہاتھ ہوتا ہے
محبت ایسی خوشبو ہے
فقط سانسوں میں بستی ہے
محبت تو بہت نازک سا اک احساس ہوتا ہے
کہیں دل کے نہاں خانوں میں رہتا ہے
محبت کا مگر رستہ بہت دشوار ہوتا ہے
بہت پُر خار ہوتا ہے
محبت تو دعا ہے
دل کی گہرائی سے اُٹھتی ہے
تو ہونٹوں سے نکلتی ہے
پیاس ہے ایسی کبھی بھی جو نہیں بجھتی
محبت بھیک میں ہر گز نہیں ملتی
محبت تو دعا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






