محبت زندگی بھی
Poet: rizwana By: rizwana, torontoمحبت کسے نہیں ہوتی
محبت کہاں نہیں ہوتی
محبت مشکل بہت یارو
محبت آساں نہیں ہوتی
محبت دھوپ بھی ہے
محبت چھاؤں بھی ہے
جہاں بےوفائ کی ہو پرچھائ
محبت وہاں نہیں ہوتی
محبت آگ بھی ہے
محبت پانی بھی ہے
محبت کرتا ہے ہر کوئ
محبت نبھانی بھی ہے
محبت زندگی بھی
محبت موت بھی ہے
محبت کر کے دیکھو
محبت جوت بھی ہے
محبت اصل بھی ہے
محبت وصل بھی ہے
محبت روگ بھی یارو
محبت جوگ بھی ہے
محبت ہے خدا کی شان
محبت انبیا کا فرمان
محبت زندگی بھی
محبت بندگی بھی
محبت درد بھی ہے
محبت زرد بھی ہے
محبت پیاس بھی ہے
محبت آس بھی ہے
محبت ہجر کا دریا
محبت اتہاس بھی ہے
محبت رنگ بھی ہے
محبت نور بی ہے
محبت بنا کچھ نہیں
محبت سرور بھی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







