محبت سوچ کر جو کی تو کیا کی؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillبغاوت سوچ کر جو کی تو کیا کی
محبت سوچ کر جو کی تو کیا کی
نہیں رکھتے جزاؤں کی تمنا
سخاوت سوچ کر جو کی تو کیا کی
ہے اسکا حسن اسکی بے نیازی
عبادت سوچ کر جو کی تو کیا کی
حسیں جذبوں کی،سچی جستجو کی
حمایت سوچ کر جو کی تو کیا کی
غلاظت سے،جبر سے،دہشتوں سے
عداوت سوچ کر جو کی تو کیا کی
شجر کی ٹہنیوں نے آشیاں کی
حفاظت سوچ کر جو کی تو کیا کی
پنپنے دو حسن کو بے ارادہ
شرارت سوچ کر جو کی تو کیا کی
ٹھٹھرتی جا رہی ہیں امیدیں
تمازت سوچ کر جو کی تو کیا کی
کیسی یخ بستگی کے موسم میں
حرارت سوچ کر جو کی تو کیا کی
دلوں کی سلطنت پہ اے میری جاں
حکومت سوچ کر جو کی تو کیا کی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






