محبت سے الجھ کر
Poet: چوہدری پرویز افضل Ch Pervaiz Afzal By: Ch Pervaiz Afzal, Jhelum Sohawa/Dubai UAEعجیب شخص تھا وہ محبت سے الجھ کر
نت نئے طریقوں سے خود کو سلجھا رہا تھا
میری آنکھوں کے سامنے میرے چمن میں
وہ شخص میرا ہی ظرف آزما رہا تھا
اپنی ہی محفل میں بیگانہ سا لگا مجھے
وہ اپنی تنہائی کو مجھے سے چھپا رہا تھا
بات بات پے وہ مخا طب کرتا محفل کو
بن سنوار کے وہ مجھے دیکھا رہا تھا
میرے سوا محفل میں تھے سبھی اسکے
ا شا روں کناروں سے وہ مجھے سمجھا رہا تھا
دیما لہجہ جکی نظریں لڑکھڑاتی آواز
لبوں کی ہنسی کے پیچھےخود کو چھپا رہا تھا
یوں تو کٹ رہی ہے دونو ں کی زندگی پرویز
آج مجھے لگا وہ بچھڑ کر پچھتا رہا تھا
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL







