محبت میں ملےزخموں کومرہم جانتےہیں
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamمھبت میں ملے زخموں کومرہم جانتےہیں
تیری جدائی میں کیا حال ہےیہ ہم جانتےہیں
ہمیں تو بڑا حوصلہ بخشا ہےرب کائنات نے
دوست کے ستم کو بھی کرم جانتے ہیں
ہماری جانب جب کوئی انگلی اٹھاتا ہے
ہم اسے محبت بھراسلام صنم جانتےہیں
شیخ صاحب کو دعویٰ ہےخردمند ہونےکا
مگر میرے بارے وہ بھی کم جانتے ہیں
اسلام توسکھاتاسب سے محبت کرنا
اب ہم محبت کو ہی اپنادھرم جانتےہیںب
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






