بھولنے والےمیں تجھےبھلاؤں کیسے
Poet: m.asghar mirpuri By: m.asghar mirpuri, birminghamبھولنے والےمیں تجھےبھلاؤں کیسے
اپنی آواز تیرےدل تک پہنچاؤں کیسے
میرےدل کےسبھی تارٹوٹ چکےہیں
اب سات سروں میں کچھ گاؤں کیسے
دن رات رونےسےفرصت نہیں ملتی
جب دل ہی اداس ہوتومسکراؤں کیسے
تیراہر نقش ذہن سےمٹاتو دوں لیکن
جو مہردل پہ لگی ہےاسےمٹاؤں کیسے
دنیابھر کےسارےغموں ں کو اپنا بنا کر
غم کےساز پہ خوش کہ گیت سناؤں کیسے
تیری یاد کاپنچھی جو میرےساتھ رہتا ہے
اپنے تخیل کے پرلگاکراسےاڑاؤں کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






