محبت پارٹ 4
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامحبت نام معمولی نہیں اس کی بھی عزت ہے
محبت پاک جزبہ ہے کہ یہ بھی رب کی رحمت ہے
جنوں جو عشق میں ہے وہ نہیں ہوتا محبت میں
مگر سچ ہے بڑی راحت ہے اس چاہت کی نعمت میں
محبت کے تغافل میں ہے مضمر شان تعمیری
محبت کو تو آتے ہی نہیں انداز تخریبی
محبت زندگی کی عظمتوں کے گیت گاتی ہے
محبت ہے میسائی جو بچھڑؤں کو ملاتی ہے
محبت وہ ہے جو ٹوٹے دلوں کو جوڑ دیتی ہے
محبت نفرتوں کے سلسلے کو توڑ دیتی ہے
محبت تو سب ہی کے زخم پر مر ہم لگاتی ہے
محبت دشمنوں کو پیار سے اپنا بناتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






