محبت پھول بھی شعلہ بھی
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukمحبت کرنے والوں کا جہاں سب جدا ہے
زمیں ان کی نرالی آسماں سب جدا ہے
نہیں فرصت انہیں دیوانگی کے روز و شب فرصت
غمِ وحشت میں ڈوبا دردِ جاں سب جدا ہے
محبت پھول بھی شعلہ بھی شبنم بھی شرار بھی
محبت کے چمن کا باغباں سب جدا ہے
رگوں میں دوڑتا ہے خون دریائے وفا بن کر
دھڑکتے دل کی زندہ داستاں سب جدا ہے
یہ چنگاری نہ جانے کب بھڑک جائے دل و جاں میں
دبی سی آگ کا نام و نشان سب جدا ہے
فرش سے تا عرش شمعِ وفا ہم نے جلا دی
عروجِ عشق کا ہر امتحاں سب جدا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






