شمع دنیا کے رویے نے
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, walesتیری صورت میں ہم کو پیار کی مورت نظر آئی
حقیقت میں زمیں پر ہی ہمیں جنت نظر آئی
محبت کا جہاں دنیا سے کیوں نہ الگ کر لیں
ہمیں ان بستیوں میں پیار کی قلت نظر آئی
بہت ہم نے تلا شی لی سر و سامانِ دل کی بھی
کہیں دل کے کسی گوشے میں نہ حسرت نظر آئی
کسی بے کس کے اشکوں میں غضب کی بےبسی دیکھی
وہ منظر یاد جب آیا مجھے و حشت نظر آئی
بدل ڈالا تجھے اے شمع دنیا کے رویے نے
تیرے جذبات میں کیوں آج یہ جرات نظر آئی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






