محبت کا اشارہ بھی
Poet: Sajid Awan By: Sajid Manzoor Awan, Islamabadنہیں آتا نظر تجھکو محبت کا اشارہ بھی
نگاہوں میں ہوں ڈوبا محبت کا ستارا بھی
بنا تیرے کیا کرتا میں جینا رُک سا جاتا ہے
نہیں ملتا بنا تیرے محبت کو سہارا بھی
ملے تو ہیں نام مجھکو بڑے تیری محبت سے
کہا پاگل کسی نے تو کسی نے تو آوارہ بھی
ویرانی ہے میرے دل میں مگر پھر بھی کیا غم ہے
میرے اس دل میں رہتا ہے کوئی تجھ سا پیارا بھی
کرو کوشش بڑھو ساجد یہ دستورِ دنیا ہے
نگاہوں کی چاہت سے نہیں ملتا کنارا بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






