محبت کیسے بدل گئی ہے
Poet: kanwal naveed By: kanwal naveed, karachiسوچ رہی ہوں میں حیران ہوں
محبت کیسے بدل گئی ہے
سو داگر ہیں،تاجر یا پھر لٹیرے
عاشق معشوق دونوں میرے
اپنے آپ کے نہ ہو پائیں
بدلی ہوئی ہیں محبت کی راہیں
دلوں سے نکل کر کدھر گئی ہے
محبت کیوں یا رب بدل گئی ہے
عزیز ہیں نیندیں عزیز جانیں
محبت ہے اِن کو کیسے مانیں
محبت آج عبادت نہیں ہے
محبت کی کسی کو ضرورت نہیں ہے
آسمان کو دیکھتی ہیں نظریں
خدا سے کیوں نہ دعا میں مانگوں
برسات وہی ہے
ہوا وہی ہے
پرندوں کی اَب بھی صدا وہی ہے
بھلے کو آج بھی بھلا ہیں کہتے
بُرے کا مطلب بھی وہی ہے
محبت پھر کیوں بدلی ہے یا رب
محبت کیسے بدل گئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






