محبت کی کہانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلامحبت کی کہانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
مری آنکھوں میں پانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
وہاں بھی مست آنکھوں میں مری دنیا کے پنچھی ہیں
یہاں بھی رت سہانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
یہاں دریا کنارے پر سبھی مخمور ہیں منظر
فضا میں لن ترانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
مرے نایاب شعروں میں تمہارا ذکر ہے شامل
مرے فن پر جوانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
یہ کیا ہے سامنے برزخ ، جفا کا کھولتا سورج
یا آفت آسمانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
تری وشمہ کے باغوں میں محبت کے گلابوں میں
سہانی شب کی رانی ہے مجھے تم یاد آتے ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






