کبھی دیکھا نہیں نہ جانا اُسے پر محبت شمار کرتے ہیں
Poet: عمران حسنی By: عمران حسنی, Lahoreکبھی دیکھا نہیں نہ جانا اُسے پر محبت شمار کرتے ہیں
اک بِن دیکھے سے چہرے کو ہم کیوں اتنا پیار کرتے ہیں
تم تو سمجھو یہ سب جاناں اس دل میں ہے خدا بستا
کیوں یہ لوگ اندھیری راتوں کو آنکھیں اشکبار کرتے ہیں
یہاں رشتے بنانے نہیں آئے لوگ وقتِ زبانی اُن کی ہے
الفاظ تیرے اختلافات کے سیدھا دل پر وار کرتے ہیں
سُن رکھا ہے یوں میں نے انسان ہوا پیدا دردِ دل کیلئے۔
پر یہاں تو سارے اپنے بیگانے سب ہی خوار کرتے ہیں
دل آزاری کی باتیں نہ کر حسنی۔۔تم کو یہ دعا ہوں دیتا
سب خوشیاں پاؤ کُن پر ربی۔۔واسطہ یارِ غار کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






