محبت کے اصولوں میں ہے شامل چپ رہنا
Poet: AHSAN KAMRAY By: Ahsan Kamray, Lahoreمحبت کے اصولوں میں ہے شامل چپ رہنا
لگیں چاہے دل پہ زخم لازم ہے چپ رہنا
محبت ایسا رستہ ہے جہاں کانٹے اور پتھربس
چبھیں کانٹے،لگیں پتھر نہ سی کرنا چپ رہنا
دستورِ محبت میںاک پل کی خوشی ہے بس
پھر جدائی،تنہائی، غم سہنا، چپ رہنا
کم ظرفی ہے کرنا، یہاںشکوے وہاںشکوے
ملے جو درد زیادہ بھی لازم ہے کہ چپ رہنا
کامرے محبت ہے فقط ذلت و رسوائی
ملے جو بے وفائی تو اسے سہنا ، چپ رہنا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






