محبت کے رازوں سے پردہ اُٹھایا ہے محفل میں
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwalaمحبت کے رازوں سے پردہ اُٹھایا ہے محفل میں
بڑی مُدت کے بعد غم سُنایا ہے محفل میں
تھا غم دینے والا بھی موجود وہاں مرے یارو
ہے بے قصور میں نے یقین دِلایا ہے محفل میں
بد نام نہیں کرنا چاہتا میں اُسے سریام اِس لئے
گِرتے آنسوئوں کو پلکوں میں چھپایا ہے محفل میں
نظروں سے پینے والوں کو نشہ کب ہوتا ہے بوتل سے
جان بُوج کے حال اپنا مدہوش بنایا ہے محفل میں
کھڑا ہے وہ رقیبوں کے درمیان مسکراتا ہوا
آج بھی اُس نے مرا دل جلایا ہے محفل میں
کامیاب ہوں میں ہر زندگی کے کھیل میں
عشق میں مرے ساتھی نے مجھے ہرایا ہے محفل میں
بس کر نہال تماشا دیکھنے کے لئے ہی اُس نے
پھر سے تجھے یہاں بُلایا ہے محفل میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






