محبت
Poet: Shahadat Zulqarnain By: Shahadat Zulqarnain, Mianwaliمحبت کے کھیل بھی بہت عجیب ہوتے ہیں
ہنسا کر آدمی کو یہ رلا دیتی ہے
دکھاتی ہے بہت خواب پہلے پہل
جنجھوڑ کر پھر نیند سے جگا دیتی ہے
طویل امیدوں کے سحر میں کر کے مبتلا
تقدیر کے نام پے دغا دیتی ہے
نقش کر کے عاشقوں کی سب اذیتیں
یہ داستانٰیں بہت دلچسپ بنا دیتی ہے
اس کی جستجو میں دی قربانیاں دیکھ کر
لوگ کہتے ہیں دیکھو ًمحبت کیا دیتی ہے
ہاں محبت غم سے نڈھال کر کے بھی
پھر سے جینے کا حوصلہ دیتی ہے
گزار کر زمانے کی تلخیوں سے
یہ دنیا کو حقیقت-وفا دیتی ہے
چلا کر عشق حقیقی کی راہوں پر
یہ مخلوق کو خالق سے ملا دیتی ہے
گر سمجھو تو محبت ہے نعمت خدا کی
اس وجود-فانی کو یہ بقا دیتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






