محبت
Poet: م الف ارشیؔ By: Muhammad Arshad Qureshi, Karachiآواز دے کر آج یہ کس نے بلا لیا
بجھتا ہوا چراغ تھا پھر سے جلا لیا
مانند اک شجر کے کبھی میں کھڑا تھا جو
دیمک کی مثل مجھ کو محبت نے کھا لیا
ہم نے جو ان کا نام لیا کیا گناہ کیا
کیوں ہاتھ میں سبھی نے ہے پتھر اٹھالیا
جیتے جی ہم سے آکے کبھی مل نہ وہ سکا
کاندھے پہ آج اس نے جنازہ اٹھالیا
حجت تھیں جتنی درمیاں وہ بھی ختم ہوئیں
سینے سے اپنے آج جو ہم کو لگا لیا
ایسا تھا وہ چراغ جو طوفاں سے لڑ گیا
اس کو خود اپنے گھر کی ہوا نے بجھا لیا
کل تک جہاں تھے ڈیرے محبت کے ہر جگہ
نفرت نے آج اس کو ٹھکانہ بنا لیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






