مد بھری آنکھوں سے وہ پلا کے چل دیا
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg pa usaمد بھری آنکھوں سے وہ پلا کے چل دیا
بجھے چراغوں کو پر جلا کے چل دیا
آیا جو محفل میں وہ یوں بے حجاب ظلم
نگاہ ڈالی جس پے اسے اپنا بنا کے چل دیا
توبہ توبہ کیا تھا جادو اس کی اداؤں میں صاحب
ارمانوں کے سلگتے انگاروں کو اور بھڑکا کے چل دیا
قیامت بربا کر گیا دی جنبش سرخ ہونٹوں کو جب
دیوانے تھے دیوانوں کو اور دیوانا بنا کے چل دیا
چھوڑو سب لوگوں کو ارشد جی اپنی خیر مانو تم
کیا ہوگا حال تمہارا تم سے وہ جو نظر ملا کے چل دیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







