مری آواز رلا نہ دے تم کو
Poet: بینا By: بینا, Karachiمری آواز رلا نہ دے تم کو
سب کچھ ہی بھلا نہ دے تم کو
راستے پھر ملا نہ دے ہم کو
گلے سے لگا نہ دے ہم کو
نگاہ تم کو ہی ڈھونڈتی ہے اب بھی
نظر تم سے ہی بہکتی ہے اب بھی
تصور تمھارا ہی ہوتا ہے
تمھارا ہی خیال رہتا ہے
سوچے بینا تو سوچیں تم کو
تم پہ ہی پیار آتا ہے
تمھاری ہی طلب ہے ہم کو
تم سے ہی مطلب ہے ہم کو
رہتے ہو پاس تم ہی ابھی بھی
مرے ہو خاص تم ہی ابھی بھی
خوشی تم سے ہی ہے ہماری
آس تمھاری ہی ہے ابھی بھی
نشا تمھارا ہی رہتا ہے
پیاس تمھاری ہے ابھی بھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






