دامن چھڑا کر تو جا رہے ہو پر تم یاد آئو گے بہت
Poet: بینا By: بینا, Karachiدامن چھڑا کر تو جا رہے ہو پر تم یاد آئو گے بہت
تمھاری آنکھیں، تمھارا کاجل، تمھاری کلائی، تم تڑپائو گے بہت
خواب ہونگے تو ہونگے تمھارے چاہت ہوگی تو ہوگی تمھاری
ہم بھولیں گے تم کو کیسے تم ستائو ۔ گے بہت
بانہوں کا جب ہوگا میرا حصار بینا جذبوں کو ہوگی میری آزادی
نہ تم خود کو چھپا پائو گے شرمائو گے بہت
کھبی آنکھیں چرائو گے تو کھبی ہاتھ چھرائو گے
پاس جو تمھیں ہم اپنے بلائیں گے تم گھبرائو گے بہت
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






