مری داستاں میں یہ عام ہےجو تھے آسرا ہوئے اجنبی
Poet: SN Makhmoor By: SN Makhmoor, Karachiمری داستاں میں یہ عام ہےجو تھے آسرا ہوئے اجنبی
وہ ہی راستے جو تھے گھر تلک ہوئے بے وفا ہوئے اجنبی
میں بھٹک رہا ہوں جہان میں، مرے دل! یہاں یہ نیا نہیں
ہوئے گم یہاں سبھی قافلے وہ جو ناخدا ہوئے اجنبی
یہ ہی سلسلے رہے ہم سفر یہ ہی تذکرے سنے ہر جگہ
کہیں اجنبی ہوئے آشنا کہیں آشنا ہوئے اجنبی
مرا کون تھا مرا کون ہے مرے حال نے یہ بتا دیا
جو مصیبتوں نے جکڑ لیا مرے ہم نوا ہوئے اجنبی
میں ضرورتوں میں جو گھر گیا ، ہوا دربدر، ہوا خاک سا
وہ جو حوصلے تھے چٹاں کبھی وہ ہی سورما ہوئے اجنبی
یہ ہی حال ہے، یہ رواج ہے کہ جہان کا یہ مزاج ہے
یوں ہی مفلسی کے سبب یہاں سبھی آشنا ہوئے اجنبی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






