مری غزل میں ہے سب کچھ مرے زمانے کا
Poet: mannan bijnori By: mnnan bijnori, mumbai indiaگھٹن ملال الم شوق مئسکرانے کا
مری غزل میں ہے سب کچھ مرے زمانے کا
کس اہتمام سے اڑتے ہیں مل کے لاکھوں طیور
سلیقہ چاہئے اپنی ڈگر بنانے کا
سگار پیتے ہیں ہم نے کبھی شراب نہ پی
دھویں سے کام لیا بزمِ غم سجانےکا
ہوس سے پاک ہے شہرِ گراں میں عشقِ غریب
کہ اچھا خاصہ کرایہ ہے وصل خانے کا
حصولِ یافت کو معشوق کر لیا ہم نے
عجیب لطف ہے اس یار کو منانے کا
ہیں اقتدار کے خواہاں یہ ماہرینِ فساد
بہانہ ڈھونڈ تے رہتے ہیں ورغلانے کا
وہی ہے خصلتِ انساں وہی وتیرئہِ شر
جدید عہد نیا عکس ہے پرانے کا
دکانِ تذکئہِ قلب قفل خواہ ہوئ
سبب ہے مال نہ بکنا دکاں بڑھانے کا
وہ ساری خوبیاں منان ترک کر دی ہیں
گمان جن پہ تھا انسانیت گنوانے کا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






