وہ پل

Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, Gujranwala

میں نہیں بھول سکتا جب بھی یاد آتا ہے رُلا جاتا ہے
ترا گلی سے گزرنا اور کچھ نہ کہنا مگر سب کہہ جانا
تراایک ہاتھ سے چھلا لینا اور اپنا میرے ہاتھ مہں پکڑا جانا،
اور مسکرا کے نظریں جھکانا۔دید کی بے قراری میں کبھی
دروازے میں کبھی چھٹ پے چڑھ کے مجھے گلی میں تلاش
کرنا۔اور جب نہ ملنا تو فون کر کے باہر بلانا کچھ نہ کہنا صرف دیکھتے رہنا۔
مجھے تری نظروں میں پیار نظر آتا تھا،
اس پیار میں سارا سنسار نظر آتا تھا،
سچ پوچھو تو کہتا ہوں خدا کی قسم
تری نظروں میں رب جیسا اعتبار نظر آتا تھا،
اب جب میں کبھی گلی سے گزرتا ہوں تری پرچھائی مجھے پکارتی ہے،
گرنے لگو تو جیسے آ سبھالتی ہے، ہاتھوں میں جب اپنے تری نشانی دیکھوں
تو ترا مسکرانا یاد آتا ہے، ترے دروازے کے آگے سے گزرتا ہوں مگر اب کوئی باہر
نہیں آتا کوئی چھٹ پے نہیں ہوتا،اب کبھی کسی کا فون بھی نہیں آتا کہ نہال
میری جان باہر آئو ذرا۔مجھے ترا دیدار کرنا ہے تم کو نہ دیکھوں تو نیند آتی چین
نہیں آتا قرار نہیں آتا،مگر اب تو کوئی بھی نہیں ہے میرے پاس جب سے تم گئی
ہو میں تنہا ہوں میری جان۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی اس ویران زندگی کو دیکھتا ہوں تو ترے
ساتھ گزارہ پل یاد آتا ہے اور رُلا جاتا ہے رُلا جاتا ہے

Rate it:
Views: 569
14 Feb, 2013
More Love / Romantic Poetry
" کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں " کون کہتا ہے کہ ہم بستے ہیں ان کے دل میں
وہ تو وقت گزاری کے لئے آ جایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو اُن کی یاد میں پلکیں سجا رکھی تھیں مگر
وہ خواب میں بھی اکثر روٹھ کر چلے جایا کرتے ہیں۔
دل کے چراغ ہم نے بڑی چاہ سے جلائے
وہ بے رخی کی ہوا سے بجھا جایا کرتے ہیں۔
اک ہم کہ ان کے نام پہ دنیا لٹا چکے ہیں
اک وہ کہ جنہیں ہم فرصتوں میں یاد آیا کرتے ہیں۔
محفل میں غیر لوگوں کو سینے سے وہ لگا کر
مظہرؔ کو دور رہنے کا سمجھایا کرتے ہیں۔
ہر بار ٹوٹ کر بھی یہی سوچتے ہیں مظہرؔ
شاید وہ اب کی بار وفا کو نبھایا کرتے ہیں۔
جن کو سمجھ لیا تھا مقدر کی روشنی ہم نے
وہ دل میں تیرگی کا دھواں چھایا کرتے ہیں۔
ہم رازِ دل سنائیں تو ہنستے ہیں لوگ سارے
وہ زخمِ دل مگر زمانے سے چھپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ عجیب لوگ ہیں اس شہرِ بے مروّت کے
چہرے کی مسکراہٹ سے جو دل آزمایا کرتے ہیں۔
ہم نے تو عمر رکھ دی تھی ان کی چاہت پر
وہ نامِ وفا لے کے یوں ہی ہمیں بہلایا کرتے ہیں۔
دل کو یقین تھا کہ وہ اپنے ہی رہیں گے
دل کو مگر ہر بار وہ ہمیشہ جھٹلایا کرتے ہیں۔
ہم زخم چھپاتے ہیں زمانے کی نظر سے
وہ زخمِ جگر اور بھی گہرا لگایا کرتے ہیں۔
محفل میں ملا کرتے ہیں اپنوں کی طرح وہ
تنہائی میں احساس مگر کھایا کرتے ہیں۔
اک ہم ہیں کہ ہر بات کو دل سے ہی لگائیں
اک وہ ہیں کہ ہر بات پہ مسکایا کرتے ہیں۔
جس روز سے دیکھا ہے بدلتے ہوئے اُن کو
آئینے بھی اب ہم سے نظریں چرایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ یہ محبت بھی عجب قرض ہے ایسا
ہم جان لٹاتے ہیں، وہ ٹھکرایا کرتے ہیں۔
سو بار بھلانے کی قسم کھائی تھی دل نے
سو بار وہی یاد چلے آیا کرتے ہیں۔
دل چیخ اُٹھے، آنکھ مگر اشک نہ برسائے
کچھ درد بھی تہذیب سے تڑپایا کرتے ہیں۔
مظہرؔ نہ سمجھ پائے محبت کا تقاضا
جو لوگ بچھڑ جاتے ہیں، یاد آیا کرتے ہیں۔
MAZHAR IQBAL GONDAL